Learn to call on Allah, In the dark, While Riding on a bus, Or sitting in a park Learn to do it when, Alone in a room, Or staying up late, Staring at the moon And if someone boasts about, What he did for Allah, And asks you to tell him, What you did for Allah Just Say, “Why should I tell you” If I did it for Allah

خدا کے لئے اے مسلمان ہوش کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشہور واقعہ  ہے کہ یہودی کا ایک عالم جس کا نام فخاض تھا ایک روز اپنے پیروں کاروں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا اپ نے سوچا کہ اگر اس کو دعوت حق  دیا جائے اور وہ اس کے قبول کرلے تو اس کےساتھ اس کے بہت سے پیروکار بھی ایمان لے ائینگے آپ نے دعوت حق پیش کی مگر وہ بدبخت قرآن کی آیات جس کا ترجمہ یہ ہے  ؛؛ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے؛؛؛  کے حوالے سے تمسخر کرنے لگا کہ تم مجھے اس اللہ پر ایمان لانے کو کہ رہے ہو جسے ہم سے قرض لینے کی ضروت پڑ گئی

اس کی ہرجاہ سرائی جاری تھی کہ سیدنا ابوبکر (جو بے حد نرم دل مشہور تھے ) نے ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کیا اس کا پیرو کار سناٹے میں آ گیا اور منہ دیکھنے لگا یہ واقع نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہکہ اسلامی شعائر اور احکامات الٰی کو نشانہ بنانے کا عمل طلوع اسلام سے لے کر حالیہ توہین ناموس رسالت تک جاری رہا مگر پہلے یہ کام دشمنان اسلام کرتے تھے مگر اب یہ کام روشن خیالی کے عملبردار اسلام کا لیبل لگاکر کررہے ہیں۔ کچھ ایسے ہی روشن خیالی طبقہ کی ٹیم نے فرسودہ دلائل سے  غیر مسلم کے ساتھ لڑکیوں کا نکاح موسیقی کو جائز اور شرعی داڑھی رکھنے کو غیر اسلامی طریقہ قرار دیا ہر سال نئو ائر نائٹ کا جائز کہنا اور مخلوط نظام تعلیم کو صحیح کہ کر اسلام کی اصل شکل کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی خدا کے لئے اپنے اسلاف کے طریقہ کو اپنائے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی زندگی کی قیمتی لمحات کو صحیح انداز میں بسر کریں

اپنے دیش میں ایک اور وزیر اعظیم نے حلف اٹھا جس کا نام سید یوسف رضا گیلانی ہے یہ مخدوم گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور سیاست کے میدان میں کافی تجربہ بھی رکھتا ہے


کی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں………….
 جبل احد  اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل پر………………
جبل احد ایک عظیم پہاڑ ہے. اور ایک تاریخی پہاڑ ہے. تخلیق ارض کے وقت اللہ تعالی نے اسے پیدا فرمایا جس کے دامن میں اسلام کی بہت بڑی جنگ لڑی گئ. جس میں 70 ستر مجاہدین نے  جام شہادت نوش فرمایا.
ایک بار احد پہاڑ کو دیکھ کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ پہاڑ ہم نے محبت کرتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت کرتے ہیں.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا کہ  احد ہم سے محبت کرتاہے سبحان اللہ کیوں محبت نہ کرے اس پہاڑ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا رکھا ہے.
انٹر نیٹ پر ایک عربی ویب سائٹ نے ایک عجیب انکشاف کیا ہے کہ اسم پہاڑ کی شکل اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل پر ہے
www.bramjnet.com
www.forums.naseej.com


                                                     مخلوط نظام تعلیم کی تباہ کاریاں 

اس نظام کی خامیاں اور خرابیاں یہ ہیں کہ اجنبی لڑکوں اور لڑکیوں کا باہمی اختلات ہوتا ہے . جس سے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں. نفسانی خوہیشات کی آگ دہکتی ہے لڑکیاں لڑکوں کو  اپنے دام  حسن میں گرفتار کرنے کے لئے ایسا تنگ اور چست اور نیم عریاں لباس پہنتی ہیں جس سے جسم کے نشیب و فراز عیاں ہوتے ہیں    اور وہ اس نازو انداز سے چلتی ہیں کہ ایک فتنہ محشر برپا ہونے لگتا ہے. اور پھر جب نفس مخالف کی نگاہ اٹھتی اور سامنے حسن جلوہ بکھرتا نظر آتا ہے تو  اس کے دل میں شوق وصال کی چنگاریاں بھڑک اٹھتی ہے پھر وہ مجنوں بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر طرح طرح کے حیلے بہانے سے اپنی لیلائے آرزو کو اپنا اسیر بنالیتا ہے پھر یہ سلسلہ عشق آگے بڑھتا ہے .

 اب عاشق اور معشوق درس گاہ کے علاوہ بھی دوسرے مقامات مثلا پارک ہوٹلوں اور ساحلوں پر ایک دوسرے کی نگاہوں سے جام عشق پیتے نظر آتے ہیں. اور جب یہ سلسلہ کافی مستحکم ہوجاتا ہے تو ہو ایک تو وہ سب کچھ ہونے لگتا ہے جس سے حیاہ کی چادر تارتار وجاتی ہے غیرت کا جنازہ نکل جاتا ہے چنانچہ مخلوط نظام تعلیم میں یہ برائیاں اور خرابیاں عموما  پائی جاتی ہے

 لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اسکول کالجوں میں پرھنے والے تمام طالب علم ایسے نہیں ہوتے کچھ شریف الطبع اور نیک بھی ہوتے ہیں جو اپنی مستقبل کے بارے میں اچھی سوچ رکھتے ہیں اور انسانیت کا درد اپنے دلوں میں سجائے رکھتے ہیں اور اس جذبہ کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ ملک و قوم ترقی کرے اور ملک میں بستے والے آرام اور چین کی زندگی گزارے یہ  جذبہ ان کے لئے صدقہ جاریہ بھی ہوتا ہے  

شیمو کی زندگی، کردار جتنی ڈرامائی

اداکارہ شیمو
شیمو کا کردار ایک غریب لڑکی کا ہے

بنگلہ دیش کی تیرہ سالہ ٹی وی اداکارہ شیمو کی اصل زندگی ان کی پردے کی کہانی جتنی ہی ڈرامائی لگتی ہے۔

شیمو بنگلہ دیشی ٹی وی کے ایک ایسے ڈرامہ سیریل میں کام کرتی ہیں جس میں نہ صرف لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیا گیا ہے بلکہ بچپن کی شادیوں کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

جیسا کہ اس ڈرامے میں ان کے کردار کو مشکلات کا شکار دکھایا گیا ہے ان کی نجی زندگی بھی کچھ ایسے ہی مسائل کا شکار ہے۔ شیمو کو ڈرامے میں کام کرنے کا معمولی معاوضہ ملتا ہے اور یہ غربت ہی تھی جس کی وجہ سے انہیں سکول چھوڑنا پڑا تھا۔

شیمو پر وہ وقت بھی آیا جب ان کے والدین نے ان کے بچپن میں ہی بیاہنے کے لیے آبائی گاؤں بھیج دیا لیکن میڈیا میں ان کی کہانی کے سامنے آنے کے بعد وہ مقامی تنظیموں اور ایک بین الاقومی خیراتی ادارے کی مدد سے نہ صرف واپس آنے میں کامیاب ہوئی بلکہ وہ اب سکول بھی جاتی ہے اور ڈراموں میں کام بھی کرتی ہے۔

شیمو ٹوکائی نتیاڈول نامی سٹریٹ تھیٹر گروپ کے ان قریباً تیس بچوں میں سے ایک ہے جو اکثر دوپہر کو ڈھاکہ کے غریب ترین علاقے کی گلیوں میں مل بیٹھتے ہیں۔ ان بچوں میں سے بہت سے سکول کی فیس ادا رکنے کے قابل نہیں اور بہت سے جزوقتی کام کر کے اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔

لیکن وہ سب ایک دن ٹی وی سٹار بننا چاہتے ہیں اور شیمو ان کی آئیڈیل ہے۔ شیمو جس ڈرامے میں کام کرتی ہے اس میں شیمو کا کردار ایک غریب لڑکی کا ہے جس کے والدین اسے سکول سے اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ شہر جا کر ملبوسات کے کارخانے میں کام کر سکے۔

یہی وہ ڈرامہ ہے جس نے شیمو کو شہرت دلوائی ہے لیکن یہ شہرت اس کی اصل زندگی میں موجود غربت اور تعلیم ادھوری رہ جانے کے خدشے کو ختم کرنے میں مدد گار ثابت نہیں ہو سکی ہے۔

’میں مزید پڑھنا چاہتی تھی لیکن میرے دادا مالی مشکلات کا شکار ہو گئے‘

شیمو کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے قبل ہو چکا تھا۔ اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اس کے دادا ، دادی پر آ پڑی۔ شیمو کی دادی عائشہ بی بی کا کہنا ہے کہ پیسہ ہمیشہ سے ہی ایک مسئلہ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ’ ہم اسے سکول کے اخراجات پورے کرنے میں ناکام تھے اس لیے ہم نے اسے گھر واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت ہمیں کچی بستی خالی کرنے کا حکم ملا تھا۔ ہمیں لگا کہ ہم تو سڑکوں پر رہ لیں گے لیکن ایک جوان لڑکی کا سڑکوں پر رہنا صحیح نہیں۔ اس لیے ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ ہم اسے واپس گاؤں بھیج دیں‘۔

شیمو کا کہنا ہے’میں مزید پڑھنا چاہتی تھی لیکن میرے دادا مالی مشکلات کا شکار ہو گئے اور وہ میری فیس ادا کرنے سے قاصر تھے۔ انہوں نے مجھے گاؤں واپس بھیج دیا۔ اور مجھے اپنا تھیٹر گروپ چھوڑ کر گھر جانا پڑا۔ لیکن یونیسف اور میرا گروپ میری مدد کو آئے اور مجھے اور میرے خاندان کو مالی مدد فراہم کی جس کی بدولت میں ڈھاکہ میں رہنے کے قابل ہوئی‘۔

شیمو مقامی تھیٹر میں کام کرنے والے بچوں کی آئیڈیل ہے

یونیسف اور ٹی وی ڈرامہ بنانے والی کمپنی شیمو کی پڑھائی کا خرچہ اٹھاتے ہیں اور وہ اپنے سکول کے قریب واقع کچی بستی میں رہتی ہے۔شیمو کا کہنا ہے’میں یہاں رہ کر بہت خوش ہوں کیونکہ میں یہاں سب کو جانتی ہوں اور سب مجھ جانتے ہیں‘۔

شیمو بنگلہ دیش کی ان بہت سی غریب لڑکیوں کی ترجمان ہے جو نہ صرف اخراجات کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں بلکہ پیسے کی یہی کمی ان کی شادی نہ ہونے کا سبب بھی بنتی ہے۔ شیمو کی دادی عائشہ بی بی کا کہنا ہے’میں اس کی شادی کرنا چاہتی ہوں لیکن ہمارے پاس جہیز کے لیے رقم موجود نہیں اور اب اگر کوئی بنا جہیز کے اس سے شادی کرنے کو تیار ہو تو تبھی شادی ہو سکتی ہے‘۔

تاہم شیمو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیریر اور تعلیم پر توجہ دینا چاہتی ہے اور ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن وہ تسلیم کرتی ہے کہ شادی سے انکار پر قائم رہنا ایک مشکل کام ہے۔’ مجھ پر دباؤ ہے کہ میں شادی کر لوں۔ اور میرے گھر والے بھی جلد از جلد میری شادی کر دینا چاہتے ہیں۔ لیکن میں شکر گزار ہوں یونیسف کی اور اپنے تھیٹر گروپ کی جو میرے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مجھے بچایا ہے اور انہی کی کوششوں کی وجہ سے میرے دادا دادی یہ بات ماننے کو تیار ہوئے ہیں کہ فی الحال شادی کا وقت نہیں ہے۔ اس وقت تو میں ایک مشہور اداکارہ بننا چاہتی ہوں‘۔

    
نواز کا بلاگ کا انحصار ورڈ پریس پر ہے